MOJ E SUKHAN

آزادی نظم

آزادی

شہر لا مکاں سے ہوں
جس میں اک مکاں میرا

خواب سے ابھرتا ہے
دودھیا سویرا سا

دھیان میں نکھرتا ہے
جو حدوں سے عاری ہے

انتہا نہیں رکھتا
چوکھٹیں دریچے در

کیا گمان میں آئیں
(صحن آنگن اور دیوار کا خیال ہی بے کار)

چار سمت کی دیوار
چاہے کتنی پھیلی ہو

آپ کا احاطہ ہے
آپ کا ہے گھیراؤ

کیوں گرفت میں آؤں
کیوں مجھے کوئی گھیرے

صرف ایک خواہش ہے
بے حدود آزادی!

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم