MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی

غزل

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی
یاد اس کی مجھے تنہا نہیں رہنے دیتی

لذت در بدری میں بڑی وسعت ہے کہ یہ
در و دیوار کا جھگڑا نہیں رہنے دیتی

گھر ہو یا رونق بازار کہیں بھی جاؤں
بے قراری تو کسی جا نہیں رہنے دیتی

بند کر لوں تو عجب نقش نظر آتے ہیں
آنکھ محروم تماشا نہیں رہنے دیتی

خواہش زر کی ہوا دل کے سیہ خانے میں
اک دیا ہے جسے جلتا نہیں رہنے دیتی

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم