MOJ E SUKHAN

آپ ہو جائیں بے وفا پھر بھی

آپ ہو جائیں بے وفا پھر بھی
ہم ہیں پابندِ التجا پھر بھی

عرش ہلتا نہیں ہے اشکوں سے
لب پہ رہتی ہے اک دعا پھر بھی

دوستوں نے تو مارنا چاہا
دشمنوں نے بچا لیا پھر بھی

ایک شعلہ بھی گھر جلا نہ سکا
لوگ دیتے رہے ہوا پھر بھی

سب چراغوں کو آپ گل کر دیں
روشنی دے گا دل دیا پھر بھی

گرچہ انصر تھا مفلسوں کا نگر
ہم لگاتے رہے صدا پھر بھی

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم