MOJ E SUKHAN

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو

ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو

اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب کو بنا لیا نہ کرو

منیر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم