MOJ E SUKHAN

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ

میں کشت زیست میں فصلوں کی صورت
کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ

گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیں
بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں
وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ

میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری
تو باغی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

جفا خو سے وفائیں کرتے کرتے
دوانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

عیاںؔ پتھر کے سینے میں ٹھہر کر
میں پانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم