مناجات
اقرا کو پھر سے واردِ غارِ حرائے دل
پھر جبرئیلِ فکر کو اذنِ کلام دے
خورشید کس طرح سے پلٹتا ہے پھر دکھا
پھر گردشِ زمیں کو شعورِ قیام دے
پھر حرفِ کن فکاں کے سیاق و سباق کھول
پھر فکرِ نارسا کو سلونی کا جام دے
مسجودِ کائنات میں ساجد ہوں نام کا
مسجودِ کائنات مجھے میرا نام دے
ساجد رضوی