انجام کارٍ عشق کا جانے بغیر میں
چھت پر اتر گیا تری دانے بغیر میں
لوٹ آیا ہوں کہ تو نے اشارہ کیا مجھے
صحرا کی ساری خاک کو چھانے بغیر میں
تیرے بغیر رہنا نہیں مجھ کو ایک پل
جیون گذار لوں گا زمانے بغير میں
منہ پھیر کر تمہیں تو بہت نیند آ گٸی
لمحے کو سو نہیں سکا شانے نغیر میں
جب جی ہی اٹھ گیا ہے تو پھر کیسا بیٹھنا
تو بیٹھ جا رہا ہوں بہانے بغیر میں
اے آسمان جھک کے مرا حوصلہ تو دیکھ
کیا جی رہا ہوں وقت سہانے بغیر میں
مجھ کو ہے تیرے ناز کی عادت پڑی ہوٸی
کیا جی سکوں گا ناز اٹھانے بغير میں
عرفان اللہ عرفان