MOJ E SUKHAN

اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا

اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا
خواب اس میں سجا ہوا بھیجا

میں نے پوچھا کہ زندگی کیا ہے
اس نے الفت کا واقعہ بھیجا

تیرے غم کو ، ترے تصور کو
آنسوؤں میں دهلا ہوا بھیجا

چوڑیاں ، پھول ، رنگ اور خوشبو
اس نے کیا کیا سجا سجا بهیجا

میں تو آنکھوں میں ڈوب جاؤں گی
اس نے کیوں کر مجهے گھڑا بھیجا

بےوفائ کے اس جہاں میں خدا
تو نے کیوں مجھ کو با وفا بھیجا

درد تنہائ اور غم دنیا
جوبھی بھیجا بے انتہا بھیجا

درد ہے ،ٹیس ہے ،ترنم ہے
خط بھی بھیجا تو اس نے کیا بھیجا

ترنم شبیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم