MOJ E SUKHAN

اگر آدمی وقت کا راز پا لے

غزل

اگر آدمی وقت کا راز پا لے
تو ممکن ہے لمحہ بھی صدیوں کو جا لے

میں الفاظ کی کنجیاں ڈھالتا ہوں
کھلیں گے کسی روز ابجد کے تالے

گزرتا ہوا وقت رک سا گیا ہے
پرندے ہیں دو چونچ میں چونچ ڈالے

زمیں کی کمر تو ہے پہلے سے کوزہ
وہی بوجھ رکھیو جسے یہ اٹھا لے

یہ ہجرت بھی جیسے عبث کی گئی ہو
یہاں بھی وہی لوگ ہیں دیکھے بھالے

یقیں چھپ گئے ہیں گمانوں کے پیچھے
گماں کہہ رہے ہیں ہمیں آزما لے

ہمیشہ نہیں رہتا دل کار آمد
ابھی وقت ہے تو یہ سکہ چلا لے

سفر کی بشارت ملی دل پکارا
یہ گھر میرا گلشن خدا کے حوالے

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم