MOJ E SUKHAN

بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی

بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

مفت میں بدنام ہو کے رہ گئے
جس کی ہونی تھی اسی کی ہو گئی

اشک سے دامن ہوا جب تر بتر
داغ ِدل ہنس کے ندامت دھو گئی

تان کے چادر زمیں پر لیٹ جا
جس کو جانا تھا وہ گھر میں سو گئی

سو جتن کر کے جسے حاصل کیا
شے تھی جو انمول پھر سے کھو گئی

ہجر میں چاہت کو دیکھا اشکبار
بیج چاہت کی سنہری بو گئی

خواب شب کا تو سمجھ کے بھول جا
جو پری تھی دور اب تو وہ گئی

جو بلا آئی تھی گھر میں ٹل گئی
تیری الجھن سر سے تیرے لو گئی

شعر ِ تابش کس قدر انمول ہے
سن کے بیگم نیند گہری سو گئی

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم