MOJ E SUKHAN

بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا

غزل

بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا
آسماں پر نظارہ کچھ عجب نکلا

روشنی چھا گئی تیرے چمکنے سے
تُو فلک پر ستارہ بن کے اب نکلا

کھوگیا پھر کہاں تُو آسمانوں میں
ڈھونڈنے پھر تجھے اب کوئی کب نکلا

خامشی اور سنّاٹے بسے ہر سُو
کھونا پانا تجھے چکّر عجب نکلا

تیری خاطر کٹا جو وقت کانٹوں پر
پھر تری راہ تکنا بے سبب نکلا

وحشتِ زندگی جو کم نہ ہو پائی
تجھ سے مل کر بھی دل کا میل کب نکلا

مل نہ پائی ثمرؔ اُس سے دوبارہ تُو
اب کے یوں بے طلب دستِ طلب نکلا

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم