MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا

غزل

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا
خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا

فضائیں لاکھ بلائیں اڑان کیسے بھریں
پروں کے ساتھ ہی جب حوصلہ بھی ٹوٹ گیا

اس ایک پیڑ کے در پے تھیں آندھیاں کیا کیا
کہ اس کے ٹوٹتے زور ہوا بھی ٹوٹ گیا

پرندے ڈھونڈتے پھرتے ہیں پھر سے جائے اماں
شجر کے ساتھ ہی ہر گھونسلہ بھی ٹوٹ گیا

شفیقؔ وہ تو بنا ہے عجیب مٹی سے
کہ دے کے دستکیں سنگ صدا بھی ٹوٹ گیا

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم