MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے

غزل

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے
بلندی پر بھی وہی ہے جو کھائی سطح پہ ہے

پھلانگ سکتا ہوں جتنا ہے دو دلوں کے بیچ
مگر جو فاصلہ جغرافیائی سطح پہ ہے

مجھے نہیں ہے ذرا رنج تہ نشینی کا
مجھے خوشی ہے چلو میرا بھائی سطح پہ ہے

ہم ایسے دیکھنے والوں کا کوئی دوش نہیں
کہ زیر سطح کثافت صفائی سطح پہ ہے

یہ کس ہنر سے کیا تم نے خود کو سیر اے دوست
کہ دودھ پی بھی لیا اور ملائی سطح پہ ہے

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم