MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے
کہیں شراب مری زندگی نہ بن جائے

کبھی کبھی تو اندھیرا بھی خوبصورت ہے
ترا خیال کہیں روشنی نہ بن جائے

بھڑک نہ جائے کہیں شمع علم و دانش بھی
جنوں جنوں ہی رہے آگہی نہ بن جائے

میں ڈر رہا ہوں کہاں تیرا سامنا ہوگا
ترا وجود ہی میری کمی نہ بن جائے

ترے بغیر زمانے کو منہ دکھا نہ سکوں
یہ زندگی کہیں شرمندگی نہ بن جائے

جہاں میں ہے کہ کمیں گاہ میں خدا جانے
اب اس قدر بھی سبک آدمی نہ بن جائے

یہ وہم دل کو ستاتا ہے رو بہ رو تیرے
یہ تیری دید کہیں آخری نہ بن جائے

طرب کی بزم میں کم کم فسردگی اے شاذؔ
کہیں مزاج کی افتاد ہی نہ بن جائے

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم