تشنہ لبوں کی تشنہ دہانی کے ذکر پر
آنکھوں میں پانی آ گیا، پانی کے ذکر پر
جس دل میں کربلا ومدینہ کی یاد ہو
روتا وہی ہے نقل مکانی کے ذکر پر
ممکن نہیں کہ آنکھ کو رونے سے روک لوں
ہمشکلِ مصطفیٰ ؐ کی جوانی کے ذکر پر
قاتل نہیں تو وہ کسی قاتل کے ساتھ ہے
جو معترض ہے غم کی کہانی کے ذکر پر
پانی کی بوند بوند ہے شرمندہ آج تک
موجِ فرات تیری روانی کے ذکر پر
بے ساختہ زبان پہ شمشیؔر آ گیا
نامِ انیس ، مرثیہ خوانی کے ذکر پر
شمشیر حیدر