MOJ E SUKHAN

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی

غزل

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی
کلیجے میں کیوں تیر بن کر گڑی

فروزاں ہوئی خلوت ماہتاب
مجھے یاد ہے وہ سماں وہ گھڑی

جھمکنے لگی عرش اعظم کی جوت
نگاہوں پہ اک چھوٹ ایسی پڑی

جو چاہا تھا مانگا نہ تھا مل گیا
لڑی آنکھ اس سے تو ایسی لڑی

کبھی کھلکھلا کر ہنسا بھی کرو
لگائی بہت آنسوؤں کی جھڑی

سعید الظفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم