MOJ E SUKHAN

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں
اک پرندہ گم ہوا اونچی اڑانوں میں کہیں

میں حقیقت ہوں کسی کردار میں مجھ کو نہ ڈھال
لوگ دہرائیں نہ مجھ کو داستانوں میں کہیں

رات چپ ہے اکا دکا چپوؤں کے ساز پر
گیت کوئی گونجتا ہے بادبانوں میں کہیں

رات زخمی ہو رہی ہے لمحہ لمحہ میرے ساتھ
پھڑپھڑاتے ہیں پرندے آشیانوں میں کہیں

فن کی مستی دیکھنا باہر حصار حرف سے
سوچنا بہتا ہے دریا سائبانوں میں کہیں

روندنا گھوڑے کی ٹاپوں سے مرا باقی بدن
اور سر لے جا کے پھینک آنا چٹانوں میں کہیں

لوگ یکجا کر رہے ہیں رمزؔ میری خاک کو
دیکھنا پھر مجھ کو میرے قدر دانوں میں کہیں

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم