تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی
غرض ہم کو کب کسی سے کوئی
کھیل حالات کا ہے یہ پیارے
بیچتا گھر ہے کب خوشی سے کوئی
ہم تَو بے لوث ہی رہے اس پر
آس رکھتے نہیں کسی سے کوئی
ایک لمحہ سکون کا لا دے
شب کی خاموشی تیرگی سے کوئی
اپنے پیاروں سے یار ملتا ہے
عید کے دن بھی بے رخی سے کوئی
جب قصور اپنا ہی نکلتا ہو
کیا شکایت کرے کسی سے کوئی
موت کے راستے پہ شمس چلا!
ہار کر آج زندگی سے کوئی
ظہیر الدین سمش