MOJ E SUKHAN

جانتا ہوں میں سب مگر پھر بھی

جانتا ہوں میں سب مگر پھر بھی
ہے گلہ بے سبب مگر پھر بھی

ایک اقرار کی تمنا میں
میں ہوا جاں بلب مگر پھر بھی

اپنی قیمت کا بھی ہے اندازہ
ہے فزوں تر طلب مگر پھر بھی

کون کافر کبھی ہوا منکر
وہ ہے لا ریب رب مگر پھر بھی

حسن اور آئینے سے کترائے
ماجرا ہے عجب مگر پھر بھی

ہائے وہ اک ادائے شکوہ گری
گرچہ ہو زیر لب مگر پھر بھی

سارے عاشق بخوبی جانتے ہیں
ڈوبتا ہے نسب مگر پھر بھی

دھونڈتے پھرتے ہو کسے انصر
پاس ہو اپنے اب مگر پھر بھی

انصر رشید عنصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم