MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب تک چپ ہے چپ رہنے دے چھیڑ نہ آس دیوانے کو

جب تک چپ ہے چپ رہنے دے چھیڑ نہ آس دیوانے کو
راز کی باتیں کھل جائیں گی طول نہ دے افسانے کو

ان کی محفل سے اٹھا تو گھر کا رستہ بھول گیا
مے خانے کا ہوش کسے ہے آگ لگے مے خانے کو

ہجر کی آگ میں جل کر جینا کھیل ہے ہم دیوانوں کا
جل مرنا عرفان نہیں ہے سمجھا دو پروانے کو

کل تک ہاتھ پکڑ کر مجھ کو مے خانے جو لاتا تھا
کیا جانے کیوں توڑ رہا ہے آج وہی پیمانے کو

جام پہ جام لنڈھائے مینا خالی کر دی مستوں نے
ایک ہی گھونٹ بچا تھا بسمل جب آئے سمجھانے کو
اقبال بسمل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم