MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے
اس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہے

پھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شام
وہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے

کالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گا
دیکھ یہ بھوری مٹی تو بس میرے خون کی پیاسی ہے

جنگل میلے اور شہروں میں دھرا ہی کیا ہے میرے لیے
جگ جگ جس نے ساتھ دیا ہے وہ تو میری اداسی ہے

لوٹ کے اس نے پھر نہیں دیکھا جس کے لیے ہم جیتے ہیں
دل کا بجھانا اک اندھیر ہے یوں تو بات ذرا سی ہے

چاند نگر سے آنے والی مٹی کنکر رول کے لائے
دھرتی ماں چپ ہے جیسے کچھ سوچ رہی ہو خفا سی ہے

ہر رات اس کی باتیں سن کر تجھ کو نیند آتی ہے ظفرؔ
ہر رات اسی کی باتیں چھیڑیں یہ تو عجب بپتا سی ہے

یوسف ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم