MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی
مرے مدعا پر نہیں ہو چکی

برا ہو مری ناتوانی ترا
نگاہ دم واپسیں ہو چکی

امید کرم کچھ نہ ساقی سے رکھ
کہ اب وہ مے ساتگیں ہو چکی

سناؤں اگر تا قیامت تو کیا
کہانی مری دل نشیں ہو چکی

کروں کس طرح اب میں عرض نیاز
کہ باقی ہے در اور جبیں ہو چکی

تراوش کہاں زخم دل میں وہ اب
کہیں کچھ رہی ہے کہیں ہو چکی

بس اب ہاتھ سے رکھ دو شیداؔ قلم
تمہاری غزل کی زمیں ہو چکی

حکیم محمد اجمل خان شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم