MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جیسے میں ہر اک شہر ہی سے شہر بدر تھا

غزل

جیسے میں ہر اک شہر ہی سے شہر بدر تھا
اب یاد نہیں پڑتا کہ میرا کوئی گھر تھا

تھی ختم یہاں آ کے ہر اک راہ حقیقت
درپیش ہمیں پھر وہی خوابوں کا سفر تھا

خاموش تھا میں یوں بھی کہ سمجھے گا مجھے کون
پھر مجھ کو مری بات کی تردید کا ڈر تھا

یہ میں ہوں یہ ہے خاک مری دیکھنے والو
اور چند پلوں کا یہ مرا رقص شرر تھا

اب اور تو کچھ دعوے سے کہنا نہیں ممکن
اک شاعر بے ساختہ تھا عرشؔ اگر تھا

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم