MOJ E SUKHAN

جینے کی تمنا بھی مرنے کی ادا ٹھہری

غزل

جینے کی تمنا بھی مرنے کی ادا ٹھہری
ہم اہل محبت کو کیا شرط وفا ٹھہری

لمحوں کے تعاقب میں ہر در سے گزرتی ہے
یہ گردش دوراں بھی کشکول گدا ٹھہری

شیشے کے مکانوں میں پتھر کے صنم دیکھے
شعلوں کی جبینوں پر شبنم کی ادا ٹھہری

سورج کی تمازت سے پگھلے ہیں بھرم کیا کیا
اک موم کی پرچھائیں پھولوں کی قبا ٹھہری

معنی کے سمندر میں الفاظ برہنہ ہیں
ساحل سے حیا ہٹ کر ٹھہری تو بجا ٹھہری

فریاد ہو یا نغمہ اب کوئی نہیں سنتا
شاعر کی صدا فرحتؔ صحرا کی صدا ٹھہری

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم