MOJ E SUKHAN

حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرح

غزل

حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرح
کوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرح

فضا میں تیرے تبسم نے بجلیاں بھر دیں
چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح

شب فراق کے بڑھتے ہوئے اندھیروں میں
تم آ گئے مرے آنگن میں چاندنی کی طرح

نسیم صبح کی شبنم کی فرحتیں لے کر
تم آئے میرے تصور میں تازگی کی طرح

ہے آرزو سے تری زندگی مری رقصاں
ہے دل میں پیار ترا روح نغمگی کی طرح

وہی ہے شوق کا جذبہ وہی ہے عز و نیاز
کہ دیکھ لینا بھی تم کو ہے بندگی کی طرح

مجھے پسند ہے ہنگامۂ جہاں واعظ
یہ زندگی نہیں جنت کی بے حسی کی طرح

کبھی وہ آگ کبھی آ کے پھول برسائیں
وہ بھولی بسری سی یادیں ہیں زندگی کی طرح

الجھنا خاروں سے ہو سامنا جو طوفاں سے
رہو جہاں میں اگر شادماں کلی کی طرح

حبیبؔ اپنی غزل میں بھی ہو وہ سوز و گداز
جو دل کو موہ لے کانہا کی بانسری کی طرح

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم