MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے

درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے
عشق یہ عشق نہیں ذہن کی نادانی ہے

پھول ایجاد ہوا بھی تو بدن کی خاطر
ورنہ خوشبو کی نجاست سے گریزانی ہے

آئنہ اس لیے تمثال نہیں ہو سکتا
میرے چہرے پہ کسی آنکھ کی حیرانی ہے

وہ تو روزن سے کوئی چاند بلاتا ہے مجھے
مطمئن ورنہ اندھیرے میں بھی زندانی ہے

چوڑیاں بیچنے والے کا کھنکتا لہجہ
اک کلائی پہ اداسی کی نگہبانی ہے

میں وہ ییاسا کہ جو دریا کی غلامی میں نہیں
پوچھتا رہتا ہوں صحراؤں سے بھی, , , پانی ہے ؟

جیسے بوسوں کا یہاں قحط پڑا ہو ارشاد
سخت دشوار مجھے جسم کی ویرانی ہے

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم