MOJ E SUKHAN

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے
میری محبتوں کا صلہ لے گیا مجھے

ویران اس نظر نے کیا مجھ کو اور پھر
تنہائیوں کا دشت بہا لے گیا مجھے

یاں بھی وہی زمین وہی آسماں ملا
میں سوچتا رہا کہ وہ کیا لے گیا مجھے

اک بار بھی وہ مجھ سے مخاطب نہیں ہوا
اس کے قریب یہ ہی گلہ لے گیا مجھے

وہ کیا ملا نہ دھیان رہا بادبان کا
گرداب میں سفینہ مرا لے گیا مجھے

گر وہ نظر شناس نہیں تھا تو کس طرح
دیکھا انہیں انہی کو سنا لے گیا مجھے

کشتی بھنور میں ان کی نگاہوں میں بے بسی
منظرؔ یہی تو اب کے اٹھا لے گیا مجھے

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم