MOJ E SUKHAN

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

غزل

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا
بے وفا تجھ سے میں نے کیا نہ کیا

غم دوری کو تیری دیکھ کے یار
آج تک جان سے جدا نہ کیا

فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا
کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا

یہ ہمیں تھے کہ ان جفاؤں پر
پھر کبھی تجھ ستی گلا نہ کیا

کون سی شب تھی ہجر کی آصفؔ
کہ یہ دل شمع ساں جلا نہ کیا

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم