MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں

غزل

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں
روشنی میں بدل رہا ہوں میں

ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جانے دو
آئنے سے نکل رہا ہوں میں

رزق ملتا ہے کتنی مشکل سے
جیسے پتھر میں پل رہا ہوں میں

ہر خزانے کو مار دی ٹھوکر
اور اب ہاتھ مل رہا ہوں میں

خوف غرقاب ہو گیا فیصلؔ
اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم