MOJ E SUKHAN

دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی

غزل

دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لی
بارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لی

نا بینا بیچتا ہے بصارت کو راہ میں
گونگے نے جب سے نطق پذیرائی چھین لی

ہم لوگ بھوک پیاس کی شدت نہ سہہ سکے
فاقوں نے ہم سے قوت گویائی چھین لی

یہ کس نے چاندنی کو سمیٹا ہے آنکھ میں
یہ کس نے سارے شہر کی بینائی چھین لی

میں گم تھا اپنے آپ میں اندرون خانہ قید
لیکن کسی کی یاد نے گہرائی چھین چھین لی

پانی پہ تیرتا رہا رنگوں کا رقص بھی
آب شفا تو مل گیا زیبائی چھین لی

اب کے مجھے ملا ہے محبت میں ایسا دکھ
چہرے سے جس نے دل کشی رعنائی چھین لی

اترا ہے ایسے آنکھ میں طاہرؔ یہ رتجگا
دلدل کو روند ڈالا گیا کائی چھین لی

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم