MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ذہن میں اب رہا نہیں کچھ بھی

غزل

ذہن میں اب رہا نہیں کچھ بھی
اس لیے سوچتا نہیں کچھ بھی

کب سے کیا کیا بنا رہا ہوں میں
پر ابھی تک بنا نہیں کچھ بھی

سب نے مجھ پر بہت ترس کھایا
پر کسی نے دیا نہیں کچھ بھی

بے سوالی کی لذتیں بھی گئیں
کاش میں مانگتا نہیں کچھ بھی

روح کو چیخنا سکھاتا ہے
عشق کچھ بولتا نہیں کچھ بھی

واہمے واہمے ہی ہوتے ہیں
آج تک تو ہوا نہیں کچھ بھی

چشم و لب زلف اور بدن بن عشق
ان کو میں مانتا نہیں کچھ بھی

زندگی کامیاب گزرے گی
دوست سے مانگنا نہیں کچھ بھی

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم