MOJ E SUKHAN

رنگ آنسو ہنسی سمجھتے تھے

غزل

رنگ آنسو ہنسی سمجھتے تھے
تم مری ان کہی سمجھتے تھے

صرف صحبت کا فیض ہے ورنہ
خاک ہم زندگی سمجھتے تھے

دل محلے کو چھوڑنے والے
سانس کی سمفنی سمجھتے تھے

خلوت جاں میں بزم آرائی
دشت کو قیس ہی سمجھتے تھے

ناصحا ایک دور تھا ہم بھی
عشق کو دل لگی سمجھتے تھے

اب جو سمجھے نہیں گلہ کیسا
آپ پہلے کبھی سمجھتے تھے

دامن کوہ غم کے باشندے
داستان خفی سمجھتے تھے

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم