MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلے

رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلے
دیئے لہو کے سر راہ جو جلا کے چلے

گلوں کو پیار کیا اور گلے لگا کے چلے
چمن میں خاروں سے دامن نہ ہم بچا کے چلے

پتا چلا نہ مسافت کا پا گئے منزل
قدم سے جب بھی قدم دوستو ملا کے چلے

نہیں ہیں واقف اسرار لذت منزل
جو راہ شوق سے کانٹے ہٹا ہٹا کے چلے

ہزار خار ہیں دامن کو تھامنے والے
ہمارے ہاتھ سے آنچل جو تم چھڑا کے چلے

وہ گزریں شوق سے بے خوف و بے خطر ساغرؔ
دکھا کے راستہ منزل کو ہم بتا کے چلے

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم