MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہ طلب میں بڑی طرفگی کے ساتھ چلے

رہ طلب میں بڑی طرفگی کے ساتھ چلے
کسی کے ساتھ نہ تھے اور سبھی کے ساتھ چلے

نہ ہم سفر کوئی پایا نہ راہبر چاہا
وہ راہرو ہیں کہ ہم زندگی کے ساتھ چلے

فریب خود کو دئے اور خود ہی پچھتائے
کسی کا جو نہ ہوا ہم اسی کے ساتھ چلے

کہو کہ ہوتی ہے اک چیز سر بلندی بھی
کہا یہ کس نے کہ ہم سرکشی کے ساتھ چلے

رہے شریک سفر اعتماد ہم قدمی
یہ کیا ضرور ہے کوئی کسی کے ساتھ چلے

شکستہ پا ہی سہی رہروان درد مگر
یہ کم نہیں کہ سلامت روی کے ساتھ چلے

خود اپنا سوز طلب دے سکے نہ جس کا ساتھ
دیار غم میں وہ کس روشنی کے ساتھ چلے

یہ کہہ کے ہو گئے خود سے بھی ہم جدا حرمتؔ
سفر میں کون کسی اجنبی کے ساتھ چلے

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم