MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ

Rahay Raqeeb say baaham wo seem Bar Mehfooz

غزل

رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ
ہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ

دریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالم
کرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ

نہ بار بار ہوس ہو نبات کی مجھ کو
رکھے جو ایک ہی بوسہ میں لب شکر محظوظ

تماشہ ایک خدائی کا ہم دکھاتے ہیں
تو کیجئے بندہ نوازی ہوئے ہو مگر محظوظ

یہی دعا ہے کہ چنداؔ کا دل علی ولی
تیرے کرم سے رہے شام اور سحر محظوظ

ماہ لقا بائی چندا

Mah laqa Baee Chanda

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم