MOJ E SUKHAN

سردی میں دن سرد ملا

غزل

سردی میں دن سرد ملا
ہر موسم بے درد ملا

اونچے لمبے پیڑوں کا
پتہ پتہ زرد ملا

سوچتے ہیں کیوں زندہ ہیں
اچھا یہ سر درد ملا

ہم روئے تو بات بھی تھی
کیوں روتا ہر فرد ملا

ملا ہمیں بس ایک خدا
اور وہ بھی بے درد ملا

علویؔ خواہش بھی تھی بانجھ
جذبہ بھی نا مرد ملا

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم