MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے

غزل

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے
زمین جلنے لگی آسماں بناتے ہوئے

کوئی بھی حرف دعا رائیگاں نہیں جاتا
میں اس یقین پہ پہنچی گماں بناتے ہوئے

تحفظ در و دیوار کار مشکل ہے
جھلس گیا ہے بدن سائباں بناتے ہوئے

عجیب لوگ تھے نفرت میں پائمال ہوئے
محبتوں کی زمیں بے نشاں بناتے ہوئے

لہو لہان جو رستے ہوئے محبت کے
ہم آسماں پہ چلے کہکشاں بناتے ہوئے

یہ کون روزن زنداں سے جھانکتا ہے غزلؔ
یہ کون قید ہوا بیڑیاں بناتے ہوئے

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم