( شامت_ اعمال )
کورونا کے حوالے سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا کرتے تھے اہل علم و دانش
سر نگوں رکھو،
تو جیسا آیا ہے دنیا میں خود کو
جوں کا توں رکھو،
اکڑ کر چل نہ پائوگے
تجھے تو پر نہیں ہیں، تو
ہوا میں اڑ نہ پائوگے۔
لڑکپن سے جوانی یا
جوانی سے بڑہاپا،
پھسل گئے رات دن
جیون کا رستہ کس نے ہے ناپا۔
سنو جب کچھ نہیں تھا
عالم_ ھو تھا ….!!
عدم تھا دم نہیں تھا۔۔۔!!
خدا نے تب زمیں پر
اپنے نائب کو اتارا تھا
تیری حیوانی جبلت پر
فرشتوں نے پکارا تھا۔
یقیں تھا قادر_ مطلق
کو تیری پارسائی پر،
اگرچہ داغ ممکن ہی نہیں
اس کی خدائی پر۔
خدا نے اپنی صورت میں
تیری تقویم ظاہر کی،
اور اس نے دست_ قدرت سے
تیری تعمیر حاضر کی،
تصور میں مصور کے تخیل کیا عجب آیا،
کہ سب مخلوق میں تم نے
الگ ہی مرتبہ پایا۔
تیری توقیر کو ملحوظِ خاطر
اس نے رکھنا تھا،
حواس_ خمسہ پاکر
تم نے اپنا آپ کرنا تھا،
تیری تعلیم کی خاطر
پیمبر آئے دھرتی پر
تجھے فھم و فراست عقل بخشا،
علم بھی بخشا،
تجھے تقدیر اپنے آپ
لکھنے کی صلاحیت دی،
کلام اللہ کی صورت میںطدع
تجھے واضح ہدایت دی۔
مگر تو ابن_ آدم
آدمیت کا ہی دشمن ہے۔
بلند و بام دعوے،
خالی دلاسے،
خود پرستی،
زمیں کے ناخدائوں سے
سبھی جھوٹے خداؤں تک،
تیری طاقت کا سرچشمہ
فقط ہتھیار ہیں تیرے۔
کہیں ائٹم،
کہیں پر ہائڈروجن بم ہیں آویزاں،
یہ انٹرنیٹ کی دنیا
تھری جی،
فور جی سے
فائیو جی تک کی رسائی،
کلوننگ کی تیری تجریدی دنیا
ترقی ہے تمہاری !؟
اٹھے تو چاند کو بھی روند ڈالا،
زمین و آسماں کا فاصلہ بھی ناپ ڈالا،
یہ ایف سکسٹین، سیونٹین، تھنڈر،
سبق رفتار یورو جیٹ فائٹر
لیپرڈ ٹو اے سیون جیسی ٹینکیں،
ترقی ہے تمہاری!؟
امارت کے نشے میں چور
اونچی اونچی بلڈنگیں تمہاری،
فلک کو چھونے والے برج تیرے
سمندر میں بھی عشرت گاہیں تیری،
بنائے تم نے کیسے کیسے منظر
مٹھی میں قید کر رکھے ہیں انبر۔
نہیں اب وقت کی
اور فاصلے کی کوئی وقعت،
خلاؤں میں بھی قبضہ ہے تمہارا،
ہواؤں میں مہلک سیٹلائٹ،
فضا کو روندتے راکٹ تمہارے،
ترقی خوب کی تم نے اے انساں،
مگر احساس سے ہیں ہاتھ خالی
تونے انسانیت کو روند ڈالا،
فخر ہے تجھ کو تیری بے خودی پر
مجھے لکھنا ہے تیری بے کسی پر۔
ہیروشیما، ناگاساکی،
فلسطیں شام بوسینیا
میں تیرے ظلم و استہزاء،
کا ننگا رقص بھی دیکھا۔
گلیوں میں بھوک اور افلاس کا
خستہ بدن لیکر،
میں نے صومالیہ کی ناریوں کو
ہانپتے دیکھا۔
عراق و شام اور ایران سے
جولان کی اونچی پہاڑیوں تک،
میں نے افغان ، کوسوو اور روہنگیا
سے نازیوں تک،
تیرا چیچک زدہ خناس چہرا
خوب دیکھا ہے،
میں نے کشمیر کے محصور
بچوں اور بچیوں کے
حقوق_ خود ارادیت
کی خاطر سر قلم دیکھے۔
تونے گاؤں تو گاؤں، شھر،
ویرانوں کو نہیں بخشا،
تونے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت
دنیا کے نقشے میں،
قفس اور قید رنج و غم
الم کے باغ اگوائے،
تو نے زندان سجوائے
کئی ایوان لرزائے۔
دھل جاتے ہیں دل تیری
چنگیزی سوچ کو پاکر،
ھلاکو خان کی تاریخ
تم نے پھر سے دہرائی،
تونے فرعون اور نمرود کو
زندہ رکھا خود میں،
تو نے مسجد کو تڑوایا،
تونے مسمار کئے مندر،
کہیں گرجا کہیں دیول،
کہیں پر گولڈن ٹیمپل،
توکنے تو فلسفہ ادیان کو ہی بیچ ڈالا ہے،
تونے مذھب کے پردے میں
ریاکاری کو پالا ہےکی۔
خدا نے ایک آدم سے بنائے مرد اور عورت
تو نے ان کو زبانوں، قوموں اور رنگوں
میں الجھایا،
تونے انسانی اقداروں کو روندا،
چیرا اور پھاڑا،
تونے کلیوں کو مسلا، پھول توڑے،
سر_ بازار تونے باغبانوں کو لتاڑا،
عندلیبوں کو رلایا،
خس و خاشاک بن کر اڑ گئے دستور سارے،
بدل دی تم نے تھذیب و ثقافت،
میرے اسلاف کی ساری قدامت۔
امارت کے نشے نے ڈگمگایا
تیرے ایقاں کو،
تکبر، خود سری نے لڑکھڑایا
تیرے ایمان کو،
تیرے وہم و گماں میں بس
فقط رنگ و نسل مذھب
عقیدے کی عداوت ہے،
تیرا مقصد غلاظت ہے۔
سنو جب ظلم مخلوق_ خدا پہ
حد سے بڑھ جائے،
سمجھلو کہ فرشتے کرنے اب انکی دوا آئے۔
زمیں کے ناخدائو،
ویٹو کردو فیصلہ رب کا؟
کہاں ہیں تیرے وہ مکروہ ریاست کے سپاہی
مقابل آگئی ہے آسمانوں سے خدائی۔
سنو اے خردمندو یہ
وبا جو ہم پہ آئی ہے
سزا اپنے کئے کی اس طرح سے
ہم نے پائی ہے۔
سنو جب آگ لگتی ہے
خس و خاشاک جلتے ہیں
ہرا سوکھا بڑا چھوٹا
پاک و ناپاک جلتے ہیں۔
سنو یہ جو "کورونا” ہے
نجس عملوں کا رونا ہے،
تو نے میرا جسم اور میری مرضی
میری مرضی کی،
خدا نے تیری میری چھوڑ کر
جب کی تو اپنی کی۔
ہوا کی بیٹی کو زینت
بنایا تم نے کلبوں کی،
سزا پائو گے اے انسان
آخر اپنے کرموں کی۔۔۔
پیر مجدد۔۔
Peer Ghulam Mujadid Sarhandi