MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے

غزل

طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے
ابھی سے کیا کہیں زر خانۂ دل میں کہاں کیا ہے

تمہاری کہکشائیں کون سی دنیا کا پرتو ہیں
یہاں تو چاند ہے بادل ہے تارے ہیں وہاں کیا ہے

وہاں بھی کیا ستارے ان کے پہلو میں ترشتے ہیں
وہاں ساز زماں کیا ہے رم سیارگاں کیا ہے

ابھی وہ میکدہ بر دوش آنکھیں رو برو ہوں گی
ابھی وہ ہنس کے پوچھیں گے کہ رنگ مے کشاں کیا ہے

یہ کیسی روشنی مٹی تلے کروٹ بدلتی ہے
وہ آئینہ تو خاکی تھا یہ عکس جاوداں کیا ہے

وہاں بھی کیا کوئی ہجر ابد آباد بستا ہے
یہاں تو پوچھیے مت صورت درد نہاں کیا ہے

یہ سیل ہجر تھم جائے ذرا تو پھر کھلے شاید
کہ یہ رنگ جدائی از کراں تا بہ کراں کیا ہے

کسی دریا کی بانہوں کے بلاوے آ گئے ورنہ
ہمارے واسطے یہ وسعت ریگ رواں کیا ہے

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم