غزل
طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے
ابھی سے کیا کہیں زر خانۂ دل میں کہاں کیا ہے
تمہاری کہکشائیں کون سی دنیا کا پرتو ہیں
یہاں تو چاند ہے بادل ہے تارے ہیں وہاں کیا ہے
وہاں بھی کیا ستارے ان کے پہلو میں ترشتے ہیں
وہاں ساز زماں کیا ہے رم سیارگاں کیا ہے
ابھی وہ میکدہ بر دوش آنکھیں رو برو ہوں گی
ابھی وہ ہنس کے پوچھیں گے کہ رنگ مے کشاں کیا ہے
یہ کیسی روشنی مٹی تلے کروٹ بدلتی ہے
وہ آئینہ تو خاکی تھا یہ عکس جاوداں کیا ہے
وہاں بھی کیا کوئی ہجر ابد آباد بستا ہے
یہاں تو پوچھیے مت صورت درد نہاں کیا ہے
یہ سیل ہجر تھم جائے ذرا تو پھر کھلے شاید
کہ یہ رنگ جدائی از کراں تا بہ کراں کیا ہے
کسی دریا کی بانہوں کے بلاوے آ گئے ورنہ
ہمارے واسطے یہ وسعت ریگ رواں کیا ہے
صائمہ زیدی