MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک
مجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تک

عشق محو غم زندگی ہو گیا حسن مدہوش عشوہ طرازی رہا
اہل دل ہوش میں آ چکے ہیں مگر ہے وہی عالم دلبراں آج تک

ایسے گزرے ہیں اہل نظر راہ سے جن کے قدموں سے ذرے منور ہوئے
اور ایسے منور جنہیں دیکھ کر رشک کرتی رہی کہکشاں آج تک

کاروانوں کے رہبر نے راہزن پھر بھی منزل پہ کچھ راہرو آ گئے
وہ نئے کاروانوں کے رہبر بنے جن سے ہے عظمت رہبراں آج تک

مشکلیں آفتیں حادثے سانحے آئے اخترؔ مری راہ میں کس قدر
مجھ کو آگے بڑھاتا رہا ہے مگر میرا دل میرا عزم جواں آج تک

اختر انصاری اکبر اآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم