MOJ E SUKHAN

عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہی

عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہی
اس کو دیوار کیا خود پس دیوار رہی

آنکھ لگ جائے تو پھر آنکھ کہاں لگتی ھے
میں اگر سو بھی گئی خواب میں بیدار رہی

تیرگی سے میرا سمجھو تہ نہیں ھو سکتا
میں ہمیشہ سے چراغوں کی طرف دار رہی

باغبانوں کو پشیمانی اسی بات کی ھے
میں خزاوں کے دنوں میں بھی ثمربار رہی

تو تو کم حوصلہ مت جان مجھے اے دنیا
تجھ سے تو ہر گھڑی میں بر سر پیکار رہی

میرے چہرے پہ تبسم کی حقیقت نہ کھلی
میں زمانے کے لئیے کتنی پر اسرار رہی

جہاں آرا تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم