MOJ E SUKHAN

فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں

غزل

فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں
دشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیں

ہر نئی بات بھلا دیتی ہے پہلے کا خیال
وہ تو اخبار ہیں بس تازہ خبر رکھتے ہیں

مٹ گیا رنگ تعلق تو یہ چہرے کے نقوش
ایک اک خط تأثر میں خبر رکھتے ہیں

ایسے لوگوں کا ملا ہم کو زمانہ جو لوگ
کور بینا ہیں مگر ہم پہ نظر رکھتے ہیں

کوئی آہٹ ہے نہ دستک کہ بچھڑ جائے سکوت
جن کو دیوار میسر ہو وہ در رکھتے ہیں

جب بھی آتی ہے کسی سمت سے مقتل کی ہوا
دھیان آتا ہے ابھی دوش پہ سر رکھتے ہیں

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم