MOJ E SUKHAN

قیاس اور صحرا

نظم

اب کے آنگن میں ترے شام جو اتری ہوگی
اس کے پہلو میں اگر دیکھو دکھائی دے گی
ہولے ہولے سے وہیں پاس سلگتی مری یاد
ایک جھونکے سے ہوا ہوکے بھڑک جائے گی

دور ساحل پہ کہیں بیٹھ کے تو بھی تنہا
ریت پر لکھ کے مرا نام مٹاتی ہوگی
آسماں سے تو اداسی کے چراتے ہوئے رنگ
کوئی تصویر کوئی عکس بناتی ہوگی

تیرے بکھرے ہوئے بالوں سے الجھتی یہ ہوا
تیرے رخسار کے پھیلے ہوئے کاجل کی طرح
ایک انگلی میں گھماتے ہوئے کالی زلفیں
تیرے احساس کو کچھ اور بڑھاتی ہوگی

پھر کسی اوٹ سے بے ربط ابھرتا ہوا چاند
اپنے ہالے میں لیے ایک کہانی سچی
رت جگوں کا تجھے اک عادی بناتا ہوگا
اور پھر نیند نہیں آنکھوں میں آئی ہوگی

میرے صحرا میں بھی اک شام ہوا کرتی ہے
گرد ہی گرد ہے اور خاک اڑا کرتی ہے
گرد میں لپٹا ہوا شام کا سورج کچھ کچھ
دن کی برسائی ہوئی آگ پہ شرمندہ ہے
اس لیے بھی یہ فضا دشت کی رنجیدہ ہے
دن کی بھٹکی ہوئی ہر ایک ابابیل تلک
اپنے مسکن کی طرف لوٹ کے جاتی ہے مگر
میں وہیں ریت پہ اک عمر سے بیٹھا ہوا ہوں
اپنے حصے کی تپش سہتا ہوں تنہا تنہا
ریت کے ذروں کو گنتا ہوں ہے وحشت میری
تیری یادوں نے دیا ہے مجھے انداز یہی
کیسی قسمت ہے مری سوچتا رہتا ہوں فقط

رشک ہر چندکے اب لوگ کیے جاتے ہیں
دور اور دور سہی کوئی ہے جس کو میں نے
کوئی تو ہے جسے چاہا ہے بہت ہی میں نے
میرے صحرا میں کہاں شام ہوا کرتی ہے
دن ڈھلا کرتا ہے کب رات ہوا کرتی ہے
ریت کے ذرے بھی ہوتے ہی نہیں ختم یہاں
میں بھی گنتا ہوں فقط گنتا ہوں گنتا ہوں فقط

ایسا لگتا ہے کوئی ان کو ملا دیتا ہے
جتنا گنتا ہوں کوئی گنتی بھلا دیتا ہے
کیسی وحشت ہے یہ درپیش ہے الجھن مجھ کو
ایک مدت سے نہیں نیند نے چومیں آنکھیں
ہے گلا خشک تو یہ ہونٹ بھی سوکھے ہوئے ہیں
تشنگی ایسی جو ہر روز بڑھے جاتی ہے
اور یہ آس ہے جو روز بجھے جاتی ہے

میرے صحرا میں کہاں شام ہوا کرتی ہے
خاک بس خاک ہی صحرا میں اڑا کرتی ہے

آصف سہل مظفر

Asif Sehal Muzaffar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم