MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا
وہ دن بھی تھے میں ترے عشق کے نصاب میں تھا

بھلا چکا ہے تو اک بار مجھ سے آ کر سن
وہی سبق جو کبھی تیرے دل کے باب میں تھا

جو آج مجھ سے بچھڑ کر بڑے سکون میں ہے
کبھی وہ شخص مرے واسطے عذاب میں تھا

اسی نے مجھ کو غم و سوز جاوداں بخشا
وہ ایک چاند کا ٹکڑا سا جو نقاب میں تھا

مرا وجود مجسم خلوص تھا ناصرؔ
میں پھر بھی بارگہہ حسن کے عتاب میں تھا

ناصر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم