MOJ E SUKHAN

گھر بھی آباد ہوا دشت کی تیاری کی

گھر بھی آباد ہوا دشت کی تیاری کی
کچھ پرندوں نے مرے گھر میں شجر کاری کی

بس یہی جرم مجھے دار پہ لے آیا ہے
جبر کے دور میں بھی میں نے قلمکاری کی

کیا خبر تھی کہ مجھے سچ میں محبت ہوگی
میں نے تو یونہی محبت کی اداکاری کی

رات سہمی ہوئی چڑیا کی طرح لگتی ہے
چاند گہنا گیا جب میں نے عزاداری کی

اپنی آواز پہ لبیک کہا کرتا تھا
بے صدا شہر میں یوں میں نے صداکاری کی

اے مجھے عشق کا بیمار سمجھنے والے
اور صورت بھی تو ہوسکتی ہے بیماری کی

تو مرے پاس جو ہوتا تو غلامی کرتا
تیری تصویر سے بھی میں نے وفاداری کی

تو مجھے دکھ بھی اگر دے تو سکوں ملتا ہے
دل تو ٹوٹا ہے مگر بات ہے سرشاری کی

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم