MOJ E SUKHAN

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی
سحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئی

کھلا جو مجھ پہ ستم گاہ وقت کا منظر
تو مجھ پہ عیش و طرب جیسی شے حرام ہوئی

مرے وجود کا صحرا جہاں میں پھیل گیا
مرے جنوں کی نحوست زمیں کے نام ہوئی

ابھی گری مری دیوار جسم اور ابھی
بساط دیدہ و دل سیر گاہ عام ہوئی

تو لا مکاں میں رہے اور میں مکاں میں اسیر
یہ کیا کہ مجھ پہ اطاعت تری حرام ہوئی

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم