MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مے بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی بھی پیمانہ بھی ہے

غزل

مے بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی بھی پیمانہ بھی ہے
دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں ذوق رندانہ بھی ہے

رقص پروانہ بھی دیکھ اے چشم عبرت یہ بھی دیکھ
شمع کی آغوش میں کچھ خاک پروانہ بھی ہے

ہم نے مانا ہے سکوں دامان ساحل میں مگر
فطرت اہل جنوں طوفاں سے ٹکرانا بھی ہے

اے طلب گار مسرت یہ بھی سوچا ہے کبھی
اک مسرت اپنے دل کو غم سے بہلانا بھی ہے

جس نے جو چاہا اسے سمجھا کیا اے ہم نشیں
زندگانی اک حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہے

اہل دل کے واسطے ہے بحر عیش و انبساط
گو بظاہر بزم ہستی ایک غم خانہ بھی ہے

دو گھڑی اے گردش ایام بس رک جا یہیں
ساقی رعنا بھی ہے گردش میں پیمانہ بھی ہے

جلوہ آرا ذرے ذرے میں ہے نور برق طور
لیکن اے صابرؔ کہیں ذوق کلیمانہ بھی ہے

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم