MOJ E SUKHAN

نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے

غزل

نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے
دل تیرے ملن کے لیے مجبور ہوا ہے

وادی میں برس کر ابھی برسات چھٹی ہے
چڑیوں کی چہک سے سمے مسرور ہوا ہے

آنکھوں کی گزر گاہ سے در آیا ہے دل میں
تو میرے تصرف سے بہت دور ہوا ہے

سو بار ترا میرا فسانہ ہوا یکجا
سو بار مرے سنگ تو مذکور ہوا ہے

تو رنگ مہک روپ میں آیا تجھے پایا
اظہار ترے پیار کا بھرپور ہوا ہے

ناصر شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم