MOJ E SUKHAN

نصف شب

نصف شب

تیس سال
زندگی کی نصف شب

نصف شب
جس سے وابستہ ہے خوابوں کی نمود

خواب
جن کی کوکھ میں

سانس لیتے اور بھی کچھ خوابچے محفوظ ہیں
اپنے ہونے کی خبر دیتے ہوئے

درد کی مہمیز کر دیتے ہوئے
نو شگفتہ خوابچے

کچھ جاں بہ لب خواب و خیال
تیس سال

زندگی کی نصف شب
اور صبح نو کا انتظار

صبح نو
جو ہو نہ ہو

پر انتظار اک رسم دیرینہ سہی
چل رہی ہے سینۂ شب پر رفو کاری مدام

زندگی کی نصف شب ہونے کو ہے
گر یہی ہے اس دل مہجور کے فن کا مقام

پھر یہی جینا سہی

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم