MOJ E SUKHAN

نظم ملاقات

ملاقات

بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں
مجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیں

جادو کیسے کیسے جادو چلتے ہیں گلزاروں سے
گیسو کیسے کیسے گیسو اڑتے ہیں رخساروں سے

شمعیں کیسی کیسی شمعیں جلتی ہیں دیواروں پر
پردے کیسے کیسے پردے گرتے ہیں نظاروں پر

نیند کے ماتے اندھیاروں کی ظالم قاتل روشنیاں
دیئے کی لو میں جلنے والی جھلمل جھلمل روشنیاں

ناچ رہی ہے چاند کے آگے جانے کتنی کالی دھوپ
روشنیوں میں ڈوب رہے ہیں جانے رات کے کتنے روپ

خوشبو بن کے پھیل چکی ہیں کتنی یادیں کتنے سن
لڑیاں بن کے ٹوٹ چکی ہیں کتنی راتیں کتنے دن

وہ یادیں جو آنسو بن کے پلکوں پر لہراتی ہیں
جانے کن کن ویرانوں میں دیئے جلا کر آتی ہیں

قمر جمیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم